متعلقہ

مودی کے جھوٹوں کا پلندہ بے نقاب – پاک لائیو ٹی وی


مودی کے جھوٹوں کا پلندہ بے نقاب

مودی کے جھوٹوں کا پلندہ بے نقاب

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی 18 اپریل 2024 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں مودی کے جھوٹوں کا پلندہ بے نقاب ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مودی کے ہندوتوا نظریے نے بھارتی شہریوں کے دل میں ہر غیر ملکی چیز اور انسان کے لئے نفرت اور بے اعتباری کے بیچ بودیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایودھیا کے ہوٹلوں میں صرف ویجیٹیرین کھانا دستیاب ہے اور سڑکوں پر گائے کھلی گھوم رہی ہیں جب کہ یہ دونوں باتیں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور ہندو انتہا پسندی کی واضح مثالیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رام مندر کے باہر دکانوں پر نفرت انگیز ہندو مردانگی کو ظاہر کرتی رام اور ہنومان کی مورتیاں بیچی جارہی تھیں جس میں رام کو 6 پیک اور مسلز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہنا ہے کہ اپنی دس سالہ حکومت کے دوران مودی نے جمہوریت کا دعویٰ کیا ہے لیکن ایودھیا میں جمہوریت کے برعکس ہر شہری چاہے ہندو ہو یا مسلم کو ہندوتوا پالیسی پر چلنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے، مودی کا ہندوستان شدید عدم مساوات، بیروزگاری، صحت عامہ کی ابتر صورت حال اور موسمیاتی تبدیلی کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں سے دوچار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی دنیا کے متنوع ترین ملک انڈیا کو کلسٹروفوبک اور انتہا پسند ہندوستان میں تبدیل کر کے ان بحرانوں کو حل نہیں کرسکتا، بھارت کو درپیش مسائل اور اپنی ناقص کارکردگی سے مودی سرکار خود بھی واقف ہے اور اسی لیے انتخابات کے پیش نظر خوفزدہ نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کریک ڈاوٴن، الیکٹورل رولز اور ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ، اپوزیشن کے مالی وسائل منجمد کرنا کسی خود اعتماد گروپ کی نشانی نہیں ہے، جنوری 2024 میں ہندوستان میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے افتتاح کا جشن منایا گیا جب کہ اس تاریخی مقام پر رام مندر یا خود رام کے وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں کی چھٹی، میڈیا چینلز پر لائیو کوریج اور آتش بازی، ان سب کے بیچ رام مندر سے زیادہ مودی کو اسپاٹ لائٹ دی گئی، افتتاحی تقریب کی تاریخ بھی نہایت احتیاط سے رکھی گئی تاکہ 26 جنوری ری پبلک ڈے کی اہمیت کو کم کیا جاسکے۔

چودہ اگست کو انتہا پسند ہندووٴں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، بھارتی پارلیمنٹ کی پرانی عمارت کے ڈیزائن کو بھی گزشتہ برس تبدیل کردیا گیا ہے جس میں ہندو، بدھ، مسلم اور عیسائی کے مابین ہم آہنگی کا حوالہ دیا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نئی عمارت میں کنول کے پھول کا ڈیزائن تشکیل دیا گیا ہے جو ہندوتوا بھارت اور بی جے پی کی نمائندگی کرتا ہے، ہندوستان میں مسلمانوں کے نام والی تمام شاہراہوں کے نام تبدیل کرکے ہندو نام رکھ دیے گئے ہیں، بالی وڈ، ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا بھی ہندوتوا پالیسی پر چلتے ہوئے محض ہندو مذہب پر مبنی مواد بنا رہا ہے جو صحافی اور ادارے ہندوتوا پالیسی پر کام کرنے کو تیار نہیں انہیں قانونی اداروں کی جانب سے دھمکیوں اور پولیس کے چھاپوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب شعبہ تعلیم میں سرکاری اداروں کو مودی سرکار کے جاہل کارکنان چلاتے ہیں اور اسکول کی نصابی کتابوں سے لے کر سائنسی تحقیقی مقالوں تک ہندوستان کے ہندو قوم پرست ورژن کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، نئے قوانین برائے بھارتی شہریت، مسلمانوں کی حق رائے دہی سے محرومی اور رام مندر کی تعمیر سے مودی نے مکمل طور پر انڈیا کو محض ایک ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔

مودی کے چمکدار رام مندر کے پیچھے انتہا پسند اور پر تشدد ہندوؤں کی کارروائیاں اور غریب اقلیتوں پر ظلم و جبر کی داستان لاکھ کوششوں کے باوجود بھی چھپائی نہیں جاسکتی۔